سلسلہ سیرت بنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قسط 1آج سے ہم بات کریں گے اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن کی زات کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن کچھ لوگوں انھیں اپنے جیسا پشر سمجھتے تو کچھ انھیں علی کا بھائی کہنا ناجائز بتاتے اور کچھ لوگ یہ گمان کرتے کہ شیعہ خیر البریہ امام علی کو رسول اکرم ص سے افضل جانتے ھیں تو سلسلہ میں باہم ربط رکھیے گا آپ پر آشکار ھو جاے گا کہ حقیقت کیا ھےجب بھی دنیا میں کسی تنظیم کا سلسلے کی ابتدا کی جاتی ھے چاہیے وہ مذہبی ھو یا سیاسی تو ہمیشہ دو چیزوں کا پہلے حساب لگایا جاتا ھے ایک افرادی قوت جسے ساتھ دینے والے یا قربان ھونے والے کہا جا سکتا ھے اور دوسری اہم چیز پیسہ تو شلیں یہ بھی دیکھیں گے کہ مشن نبی آخرالزمان میں جب خون کی ضرورت پڑی خون کس گھرانے کا لگا اور جب پیسے کی ضرورت پڑی تو مال کس کا لگا اور ان دونوں چیزوں کا اہتمام خدا نے کن پستیوں اور خاندانوں سے کیامحمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت مطابق12/17 ربیع الاول عام الفیل (وہ سال جس میں ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر کے ساتھ کعبہ کو منہدم کرنے آیا تھا) بمطابق 570ء کو اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد ہوئی۔ آپ کا محل ولادت مکہ اور بعض مآخذ میں شعب ابی طالب میں محمد بن یوسف کا گھر مذکور ہے عربی زبان میں لفظ "محمد" کے معنی ہیں 'جس کی تعریف کی گئی'۔ یہ لفظ اپنی اصل حمد سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے تعریف کرنا۔ یہ نام ان کے دادا حضرت عبدالمطلب نے رکھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام مذاہب کے پیشواؤں سے کامیاب ترین پیشوا تھے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی طرف سے عالمین کی جانب بھیجے جانے والے انبیاء اکرام کے سلسلے کے آخ
برچسب:
نویسنده: متین رنجبر
تاريخ: يکشنبه
24 بهمن
1400 ساعت: 23:22